سرفراز احمد کی انڈر 19 میچ کے دوران فون استعمال کرنے کی تصویر پر شور

سرفراز احمد

،تصویر کا ذریعہSocial Media

زمبابوے میں جاری انڈر 19 ورلڈ کپ میں اتوار کو انڈیا نے پاکستان کو 58 رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی تو اس دوران پاکستان کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ایک اور چیز سوشل میڈیا پر بحث کا سبب بنی۔ دراصل یہ معاملہ پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان سرفراز احمد کی ایک وائرل تصویر کا تھا۔

کئی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سرفراز احمد کی میچ کے دوران لی گئی لائیو فوٹیج کی ایک تصویر شیئر کی جا رہی ہے جس میں بظاہر وہ ہاتھ میں موبائل فون پکڑے دکھائی دے رہے ہیں۔

اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد کئی صارفین کی جانب سے سوال اٹھایا گیا کہ سرفراز احمد پلیئرز اینڈ میچ آفیشلز ایریا (پی ایم او اے) میں بیٹھ کر کیسے موبائل فون استعمال کر رہے ہیں؟

ہم نے آئی سی سی کے قوانین کی روشنی میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ آیا سرفراز احمد سے کوئی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

کیا سرفراز احمد ڈگ آؤٹ میں فون استعمال کر سکتے تھے؟

سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اس بارے میں اپنی رائے ظاہر کی ہے۔

وپن تیواری نامی ایک صارف سرفراز احمد کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آئی سی سی کی جانب سے پی ایم او اے میں مواصلاتی آلات کے استعمال پر سخت پابندی کے باوجود سرفراز کے انڈر 19 کے میچ کے دوران فون استعمال کرنے پر سوال تو بنتے ہیں۔

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

ایکس پر موجود ڈگی نامی ایک اور صارف لکھتے ہیں کہ ان قواعد کا مقصد میچ میں کسی بھی قسم کے بیرونی اثر و رسوخ یا میچ فکسنگ کو روکنا ہے۔ 'کوئی اسے دیکھ رہا ہے؟'

وکٹ کیپر اور پاکستان کی قومی کرکٹ کے سابق کپتان سرفراز احمد بھی پاکستان انڈر 19 ٹیم کے ہمراہ زمبابوے میں موجود تھے۔

پی سی بی کی جانب سے 18 دسمبر کو جاری پریس ریلیز کے مطابق، سرفراز احمد کو زمبابوے میں ہونے والی سہہ فریقی سیریز اور انڈر 19 ورلڈ کپ کے لیے بطور مینیجر اور مینٹور نامزد کیا تھا۔

آئی سی سی قوانین کے مطابق، بطور ٹیم مینیجر انھیں ٹیم پلیئرز اینڈ میچ آفیشلز ایریا میں موبائل ڈیوائس لے جانے اور دورانِ میچ اسے استعمال کرنے کی اجازت حاصل ہے۔

آئی سی سی کا پلیئرز ایریا میں مواصلاتی آلات کے استعمال متعلق قانون کیا کہتا ہے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق، سنہ 2000 میں کونسل کے اینٹی کرپشن قوانین کی معاونت کے لیے آئی سی سی اینٹی کرپشن منیمم سٹینڈرڈ فار پلیئرز اینڈ میچ آفیشلز ایریا ترتیب دیے گئے تھے۔

آئی سی سی کا کہنا ہے کہ ان ضوابط کا مقصد نہ صرف کھیل کے شرکا کو کسی بھی غیر متعلقہ کی جانب سے رابطہ کیے جانے سے بچانا ہے بلکہ غیر ارادی طور پر کھلاڑیوں یا آفیشلز کی جانب سے کسی بھی طرح کی اندرونی معلومات شیئر کیے جانے امکان کو بھی رد کرنا ہے۔

قواعد کے مطابق انٹرنیشنل میچز کے دوران پی ایم او اے میں ٹیموں اور میچ آفیشلز کے زیر استعمال ڈریسنگ رومز، ٹیموں کے میچ ویو ایریاز بشمول ڈگ آؤٹ، کسی بھی امپائر یا میچ ریفری کے زیر استعمال آپریشنل روم، ٹیموں اور میچ آفیشلز کے زیر استعمال کھانے کا ایریا شامل ہے۔ اس کے علاوہ آئی سی سی اینٹی کرپشن مینیجر کی جانب سے اس میں کسی اور جگہ کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

پی ایم او اے میں صرف وہی شخص داخل ہو سکتا ہے جسے آئی سی سی کی جانب سے اجازت دی گئی ہو اور اس کے لیے آئی سی سی کا جاری کردہ اکریڈیشن کارڈ پہننا بھی لازمی ہے۔

سرفراز احمد

،تصویر کا ذریعہEPA

اس کے علاوہ پی ایم او اے میں موجود کسی بھی شخص کو باہر جانے کے لیے اینٹی کرپشن مینیجر کی اجازت درکار ہوتی ہے۔ اینٹی کرپشن مینیجر کی غیر موجودگی میں کھلاڑیوں کو یہ اجازت ٹیم مینیجر جبکہ آفیشلز کو میچ ریفری یہ اجازت دے سکتا ہے۔

آئی سی سی قوانین کے مطابق، پی ایم او اے میں موجود کسی بھی کھلاڑی کو کسی قسم کا مواصلاتی آلہ (جیسے کہ موبائل فون یا ایسا آلہ جس سے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی جا سکی) رکھنے یا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس کے علاوہ پلیئر اینڈ آفیشلز ایریا میں لینڈ لائن فون کا استعمال بھی ممنوع ہے۔

تاہم اس قانون میں کچھ استثنیٰ بھی دی گئی ہے۔

آئی سی سی قانون کے مطابق، ہر ٹیم مینیجر کو پی ایم او اے کے اندر ایک موبائل ڈیوائس لے جانے کی اجازت ہے لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ یہ موبائل فون صرف کرکٹ آپریشن کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ ٹیم کے میڈیا مینیجر اور سکیورٹی مینیجر کو بھی پلیئرز ایریا میں فون لے جانے کی اجازت ہے تاہم وہ اسے استعمال نہیں کر سکتے۔

آئی سی سی کے ضوابط کے مطابق، ٹیم مینیجر اور ٹیم کے ساتھ سپورٹ ارکان لیپ ٹاپ بھی لے جا سکتے ہیں جسے وہ کرکٹ آپریشن کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔