یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
دو فروری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
قطر، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں پر اسرائیل کی مذمت کی ہے۔ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
دو فروری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قطر، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں پر اسرائیل کی مذمت کی ہے۔
ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے یہ اقدامات خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں اور امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ایسے وقت میں جب علاقائی اور عالمی فریقین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد پر عملدرآمد کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کی بار بار خلاف ورزیاں سیاسی عمل کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں اور غزہ میں سکیورٹی اور انسانی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کی کامیابی کے لیے مکمل عزم اور عملدرآمد ضروری ہے۔
بیان میں تمام فریقوں پر زور دیا گیا کہ وہ اس نازک مرحلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، زیادہ سے زیادہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں، جنگ بندی کو برقرار رکھیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو موجودہ عمل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ سازگار حالات پیدا کیے جائیں تاکہ جلد بحالی اور تعمیرِ نو کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے اور ایک منصفانہ و دیرپا امن قائم ہو جو فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام پر مبنی ہو، جیسا کہ بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور عرب امن منصوبے میں درج ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTI
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی زیرِ نگرانی خیبر میں منعقدہ گرینڈ امن جرگے میں تیراہ کے متاثرین نے واضح کیا کہ وہ اپنے گھروں سے رضاکارانہ طور پر نہیں نکلے بلکہ انھیں جبری طور پر بے دخل کیا گیا۔ جرگے میں شریک عوام اور مشران نے متفقہ طور پر کہا کہ نقل مکانی ان پر مسلط کی گئی اور اس دوران انھیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیر اعلی کے دفتر سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جرگے کے شرکا نے تیراہ کے عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور ظلم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے اسلام آباد کا رخ کریں گے۔ اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ اسلام آباد جانے سے قبل دیگر قبائلی اضلاع میں بھی مشاورتی جرگے منعقد کیے جائیں گے تاکہ اجتماعی رائے سامنے آ سکے، جس کے بعد ایک مشترکہ گرینڈ جرگہ حتمی لائحہ عمل طے کرے گا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے کسی صورت قبول نہیں کیے جائیں گے اور اسلام آباد جا کر واضح طور پر کہا جائے گا کہ ایسے فیصلے نامنظور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے اور عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور دنیا کی دولت بھی ان کے ضمیر کا سودا نہیں کر سکتی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ 2018 سے 2022 تک صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر رہی، تاہم ’رجیم چینج آپریشن‘ کے ذریعے بیرونی سازش کے تحت عمران خان کی حکومت کو ہٹایا گیا، جس کے بعد صوبے پر دوبارہ دہشت گردی مسلط کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت نے حالات کی خرابی پر پیشگی خبردار کیا تھا مگر ان خدشات کو جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دیا گیا اور وفاقی حکومت نے بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے پہاڑوں تک پہنچنے کی اطلاع دی گئی مگر کوئی کارروائی نہ ہوئی، پھر بتایا گیا کہ وہ وادی میں اتر آئے ہیں لیکن کسی نے توجہ نہ دی۔ بعد ازاں دہشت گرد گھروں تک پہنچ گئے اور بندوق کی نوک پر کھانا لینے لگے۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ دہشت گرد گھروں تک پہنچے کیس�� اور انھیں روکنے والی فورسز کہاں تھیں۔

،تصویر کا ذریعہ@SohailAfridiISF
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بعد میں گھروں پر ڈرون حملے شروع ہوئے، معصوم شہریوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا، ایک بچی کو شہید کیا گیا اور احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کی گئی جس سے مزید جانیں ضائع ہوئیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات ملٹری آپریشن کا راستہ ہموار کرنے کے لیے کیے گئے۔
انھوں نے کہا کہ تیراہ میں آپریشن کے ذریعے عوام کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی، حالانکہ علاقے میں برف باری متوقع تھی۔ بار بار منع کرنے کے باوجود لوگوں کو زبردستی بے گھر کیا گیا اور بعد میں پریس ریلیز کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا کہ لوگ خود علاقہ چھوڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اپنے ہی اداروں پر عدم اعتماد کے مترادف ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ قبائلی عوام پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں مگر ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ قبائلی عوام دہشت گرد نہیں بلکہ غلط پالیسیاں دہشت گردی کو جنم دے رہی ہیں۔
انھوں نے واضح کیا کہ تیراہ متاثرین کے لیے چار ارب روپے صوبائی حکومت نے اپنے وسائل سے مختص کیے ہیں، حالانکہ یہ وفاق کی ذمہ داری تھی۔ ان کے مطابق سابقہ آپریشنز کے دوران وفاق نے بے گھر افراد کو چار لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا جو آج تک پورا نہیں ہوا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت اب تک سات ارب روپے سے زائد ادا کر چکی ہے جبکہ آئی ڈی پیز کے 52 ارب روپے اور مجموعی طور پر صوبے کے 4758 ارب روپے وفاق کے ذمے واجب الادا ہیں۔ انھوں نے اعلان کیا کہ متاثرین کے لیے چیف منسٹر ریلیف اکاؤنٹ کھولا جائے گا اور رجسٹریشن کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے بتایا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملاقات کی دعوت دی ہے جس میں وہ صوبے کے عوام کا مقدمہ پوری قوت سے پیش کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ وہ دیگر قبائلی اضلاع کے دورے بھی کریں گے کیونکہ قبائل نے پاکستان کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک خاص مائنڈ سیٹ ان کے وزیرِ اعلیٰ بننے سے ناخوش ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ قبائل قومی دھارے میں آئیں، حالانکہ قبائلی عوام تعلیم یافتہ، محبِ وطن اور آئین و قانون کے پابند ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کی جنگ لڑیں گے۔‘
آخر میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’صوبائی حکومت ان واقعات کی شدید مذمت کرتی ہے اور شہداء کے لواحقین کے غم میں شریک ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہMike Blake/Reuters
پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو مسترد کیا۔
احمد واحدی نے کہا ہے کہ خطے میں امریکی بحری بیڑوں کی آمد ’دشمن کی نفسیاتی کارروائیوں کا حصہ ہے اور اس پر توجہ نہیں دی جانی چاہیے۔‘
احمد واحدی نے یہ بھی کہا کہ ایرانی مسلح افواج کی تیاری ’بہترین حالت میں‘ ہے اور اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں ’بہت زیادہ‘ ہے۔
پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر نے کہا کہ ’دشمن جنگ کے ماحول پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ ان کی نفسیاتی کارروائیوں کا حصہ ہے، ہمیں اس جال میں نہیں پھنسنا چاہیے اور ان کارروائیوں سے ملک کی سرگرمیاں کسی بھی طرح متاثر نہیں ہونی چاہئیں‘۔

،تصویر کا ذریعہBehnam Yakhchali IG
ایران کی قومی باسکٹ بال ٹیم کے ایک کھلاڑی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’عوام سے ہمدردی‘ میں ٹیم سے استعفیٰ دیا ہے۔
بہنم یخچالی نے اپنے انسٹاگرام پر ایک پیغام پوسٹ کیا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اس وقت تک قومی ٹیم میں شامل نہیں ہوں گے جب تک ’لوگوں کے دل ٹھیک نہیں ہوتے‘۔
انھوں نے زور دے کر کہا کہ قومی ٹیم کی جرسی پہننا ہمیشہ ان کا ’سب سے بڑا اعزاز‘ رہا ہے لیکن موجودہ حالات میں وہ عوام کے دکھوں سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔
قومی باسکٹ بال کھلاڑی نے مزید کہا کہ ان کا فیصلہ عدم دلچسپی سے نہیں کیا گیا بلکہ ’ہمدردی اور احترام کا انتخاب ہے۔
اس سے قبل ایران کی قومی فٹ بال ٹیم کی کھلاڑی زہرہ علی زادہ نے بھی ایسا ہی ایک پیغام شائع کرتے ہوئے قومی ٹیم سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ان کی ترجیح ’عوام کے ساتھ کھڑا ہونا‘ ہے۔
حالیہ ہفتوں میں فنکاروں اور کھلاڑیوں سمیت بہت سی ایرانی شخصیات نے احتجاج کی حمایت کی ہے اور ایران کی موجودہ صورتحال پر اپنی عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہIribnews
ایرانی ارکان پارلیمنٹ میں پاسداران انقلاب کی وردی پہنے ہوئے داخل ہوئے۔ یہ یورپی یونین کی جانب سے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کیے جانے پر ایرانی پارلیمان کا ردعمل تھا۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق اسلامی مشاورتی اسمبلی کے پریزیڈیم کے پوڈیم پر ’پاسداران انقلاب دنیا کی سب سے بڑی انسداد دہشت گردی تنظیم ہے‘ کے نعرے کے ساتھ ایک بینر بھی آویزاں کیا گیا تھا۔
حکم نامے سے قبل تقریروں کے دوران نمائندوں نے ’شیم آن یورپ‘ جیسے نعرے بھی لگائے۔
یورپی یونین نے 29 جنوری کو اعلان کیا کہ اس نے پاسداران انقلاب کو ایک دہشت گرد تنظیم کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ یورپی یونین کے حالیہ اقدام پر ایران کے کئی عہدیداروں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔

،تصویر کا ذریعہTasnim News
یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ حالیہ مظاہروں کے دوران مظاہرین کو پرتشدد دبانے کے جواب میں اٹھایا گیا تھا۔
اگرچہ یہ پہلا موقع ہے کہ یورپی یونین نے کسی ریاست سے وابستہ فوجی فورس کو اس طرح کی فہرست میں شامل کیا ہے، لیکن پاسداران انقلاب کے لیے یہ کوئی بے مثال تجربہ نہیں ہے اور یہ ادارہ بتدریج حالیہ برسوں میں متعدد ممالک کی دہشت گردوں کی فہرستوں میں شامل ہوا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے آج ایک عوامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے خلاف انسدادی اقدامات کے قانون کے آرٹیکل 7 کے مطابق یورپی ممالک کی فوجیں ایک دہشت گرد گروہ تصور کی جاتی ہیں اور اس کارروائی کے نتائج کی ذمہ داری یورپی یونین پر عائد ہوگی۔‘
باقر قالیباف نے کہا کہ ’یورپیوں نے دراصل پاسداران انقلاب کو نشانہ بنانے کی کوشش کر کے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے، جو یورپ میں دہشت گردی کے پھیلاؤ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہANI
انڈیا نے اتوار کو بلوچستان میں امن کو متاثر کرنے کی کوششوں میں مبینہ ’انڈین کردار‘ سے متعلق پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں مکمل طور پر ’بے بنیاد‘ قرار دیا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ’اس طرح کے الزامات لگانا پاکستان کی اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی پرانی حکمت عملی ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کا ’جبر، ظلم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ‘ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔
رندھیر جیسوال نے واضح کیا کہ انڈیا پاکستان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ ان کے مطابق ’یہ اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہflightradar24
ایران کے نائب وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا ہے کہ ’علاقائی حالات کی وجہ سے یہ فطری ہے کہ جب ایئرلائن کمپنیاں اپنے شناخت کردہ خطرات کا جائزہ لیتی ہیں تو پروازوں کی تعداد میں کمی واقع ہوتی ہے۔ گذشتہ ماہ کے مقابلے میں ملک اور خطے کی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازیں نصف رہ گئی ہیں۔‘
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلائٹ ریڈار24 کی مشاہدات کے مطابق خلیج فارس کے ممالک میں صرف ایران وہ ملک ہے جہاں بین الاقوامی پروازوں میں شدید کمی دیکھنے کو ملی، جبکہ دیگر ممالک کی بین الاقوامی پروازیں حسبِ سابق جاری ہیں۔
محمد امیرانی نے داخلی پروازوں کے بارے میں کہا کہ ’خوش قسمتی سے اب تک نہ تو ہوائی اڈوں پر اور نہ ہی فضائی حدود میں کسی قسم کی پروازی سطح پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اگر ضرورت پیش آئی تو یقیناً پروازی پابندیاں نافذ کی جائیں گی، لیکن اس وقت ملک کی فضائی حدود میں کوئی پابندی نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
تہران اور واشنگٹن کے درمیان تناؤ بڑھتے ہی ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی نئی جنگ علاقائی ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ ’امریکیوں کو جان لینا چاہیے کہ اگر انھوں نے جنگ شروع کی تو اس بار یہ علاقائی جنگ ہوگی۔‘
ایرانی نشریاتی ادارے (آئی ایس آئی ایس) کے مطابق خامنہ ای امام خمینی کی حسینیہ میں ’لوگوں کے ایک بڑے ہجوم سے‘ خطاب کر رہے تھے۔
خامنہ ای نے کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ وہ کبھی کبھی جنگ کے بارے میں بات کرتے ہیں اور ہوائی جہازوں اور بحری بیڑوں وغیرہ کے بارے میں بات کرتے ہیں،‘ اور ’ماضی میں، امریکیوں نے اپنی تقریروں میں بارہا دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ جنگ کے آپشن سمیت تمام آپشن میز پر ہیں۔‘
انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ ’اب یہ شریف آدمی (ٹرمپ) بھی مسلسل یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ہم جنگی جہاز لائے ہیں اور ایرانی قوم کو ان باتوں سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے، ایرانی عوام ان دھمکیوں سے متاثر نہیں ہوئے‘۔
خامنہ ای نے اس بات پر زور دیا کہ ایران جنگ شروع کرنے والا نہیں ہے اور اس کا کسی ملک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، لیکن ’ایرانی قوم ہر اس شخص کے خلاف سخت ضرب لگائے گی جو اس پر حملہ کرے گا اور اسے ہراساں کرے گا۔‘
حالیہ فتنہ بغاوت کی طرح تھا لیکن یقیناً بغاوت کو کچل دیا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایران میں جنوری میں ہونے والے مظاہروں کو ’بغاوت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’حالیہ مظاہرے بغاوت کے مترادف تھے لیکن یقیناً اس بغاوت کو دبا دیا گیا تھا۔
ایرانی رہبر اعلیٰ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے ان مراکز پر حملہ کیا جو ملک پر حکومت کرتے ہیں، یہ ایک بغاوت جیسا تھا۔‘
’ان کا مقصد ملک کی انتظامیہ کے حساس اور موثر مراکز کو تباہ کرنا تھا، اور اسی وجہ سے، انھوں نے پولیس، حکومتی مراکز، پاسداران انقلاب کے مراکز، بینکوں اور مساجد پر حملے کیے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ روز بلوچستان میں ہونے والے حملوں میں شدت پسندوں نے دو خواتین کو بھی استعمال کیا تھا۔
اتوار کے روز سیالکوٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ شدت پسند نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کی ذہن سازی کر رہے ہیں۔
سنیچر کے روز بلوچستان کے مختلف شہروں میں ہونے والے حملوں کے متعلق وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ کل جو واقعات ہوئے ہیں ان میں دو جگہوں پر خواتین کو بھی استعمال کیا گیا ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں نے شدت پسندوں کا کوآرڈینیٹد حملہ ناکام بنایا ہے اور وہ اب ’موپنگ اپ آپریشنز‘ میں لگے ہوئے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں گذشتہ سال ڈیڑھ سال سے نسبتاً امن تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا پڑے گا، چاہے وہ ملک میں ہوں یا باہر۔ ’اگر افغانستان ان کی پشت پناہی کر رہا ہے تو ہم کوئی بھی قدم اٹھانے میں دریغ نہیں کریں گے۔‘
اس سے قبل پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا تھا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد شہروں میں ہونے والے حملوں میں کم از کم 92 شدت پسند اور 15 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس سے قبل جمعہ کے روز پنجگور اور شابان میں مختلف کارروائیوں میں 41 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا، جس کے بعد دو روز میں ہلاک کیے جانے والے شدت پسندوں کی تعداد 133 ہو گئی ہے۔
بیان کے مطابق سنیچر کو ہونے والے حملوں میں 18 عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہTasnim News
ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے پارلیمان کے اجلاس میں کہا ہے کہ برابر کا بدلہ لینے کے اصول کی شق نمبر سات کے تحت یورپی ملکوں کی افواج کو ’دہشتگرد‘ قرار دیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ یورپی یونین نے 29 جنوری کو ایران کی پاسداران انقلاب کو ’دہشتگرد‘ تنظیم قرار دینے کا اعلان کیا تھا۔
سپیکر محمد باقر کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کو نشانہ بنا کر یورپ نے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار لی ہے، کیوں کہ پاسداران انقلاب ’دہشتگردی کے یورپ کی طرف پھیلاؤ کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔‘
انھوں نے یورپی یونین کا اقدام ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ امریکی صدر اور اسرائیل کے احکامات پر لیا گیا قدم ہے، اس سے ’عالمی نظام میں یورپ کی اہمیت کم ہونے کا عمل مزید تیز ہو جائے گا۔‘
ایرانی میڈیا کے مطابق، یورپی یونین کی جانب سے پاسداران انقلاب کو ’دہشتگرد‘ قرار دینے کے بعد ایرانی پارلیمان کا جو اجلاس ہوا، اس میں شریک اراکین نے پاسداران انقلاب کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ اراکین پارلیمنٹ نے ’یورپ شرم کرو‘ کے نعرے بھی لگائے۔
آمریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت انڈیا امریکہ سے وینزویلا کا تیل خریدے گا۔
یاد رہے کہ وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی معزولی اور انھیں امریکہ کی جانب سے گرفتار کیے جانے کے بعد امریکہ وینزویلا کی تیل کی صنعت پر اپنا کنٹرول بنانے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔
سنیچر کے روز ایئر فورس ون پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وینزویلا اب امریکہ کو بھاری مقدار میں تیل فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
صحافی کی جانب سے سوال پر کہ کیا چین وینزویلا کو تیل کے لیے ادا کی گئی رقم واپس لے پائے گا ٹرمپ کا کہنا تھا، ’مجھے اس بارے میں علم نہیں، لیکن میں آپ کو بتاتا چلوں کہ اگر چین آنا چاہے تو ہم خوش آمدید کہیں گے اور ہمارا تیل پر بہت اچھا سودا ہو سکتا ہے۔ ہم چین کو خوش آمدید کہتے ہیں۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا، ’ہم پہلے ہی ایک معاہدہ کر چکے ہیں۔۔۔ انڈیا آرہا ہے اور وہ ایران سے خریدنے کے بجائے وینزویلا سے تیل خریدے گا۔ ہم پہلے ہی یہ معاہدہ کر چکے ہیں۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ ’چین کا بھی وینزویلا کا تیل خریدنے کا خیرمقدم ہے، وہ آکر تیل خرید سکتے ہیں۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر انڈیا کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے تیل خریدنے پر انڈیا پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کر دیا تھا۔
دریں اثنا انڈیا کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے ٹرمپ کے اس دعوے پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کانگریس کے لیڈر جے رام رمیش نے ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ، ’انھوں نے (ٹرمپ) ہمیں بتایا کہ آپریشن سندور روک دیا گیا ہے۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ انڈیا نے روسی تیل خریدنا بند کر دیا ہے۔ اور اب یہ (انڈیا وینزویلا سے تیل خریدے گا)‘۔
’صدر ٹرمپ ہمیں مسلسل اس بارے میں معلومات دے رہے ہیں کہ ہماری اپنی حکومت نے کیا کیا ہے یا کرنے والی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں بحری بیڑے کی تعیناتی کو اور امریکہ کے ایران پر ممکنہ حملے کے متعلق کافی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں تاہم اس سب صورتحال میں اسرائیل غیر معمولی طور پر خاموش ہے۔
گذشتہ ماہ ایران کے حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت میں کچھ بیانات دینے کے علاوہ اسرائیل کے وزیر اعظم نے اپنے سپر پاور اتحادی اور اپنے سب سے بڑے دشمن کے درمیان ممکنہ محاذ آرائی کے متعلق عوامی سطح پر کچھ نہیں کہا۔ ان کی حکومت بھی خاموش ہے۔
اسرائیل کی ڈیفنس انٹیلی جنس میں 25 سال تک خدمات انجام دینے والے ڈینی سیٹرینوچز اب اسرائیل کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز میں ایران پر سینیئر محقق کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ نیتن یاہو اس پوری صورتحال کو کتنی اہمیت دے رہے ہیں۔
’نیتن یاہو کے لیے، ایسی صورتحال جہاں خلیج میں امریکی فوج کی ایک بڑی تعداد میں موجود ہے اور ٹرمپ ایران پر حملہ کرنے کے اتنے قریب ہیں، یہ ان کے لیے ایک سنہری لمحہ ہے جسے وہ گنوانا نہیں چاہتے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’اسرائیلی خاموشی بھی ایک حکمتِ عملی ہے‘
اسرائیل کے سگنلز انٹیلی جنس یونٹ کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر اسف کوہن کہتے ہیں کہ اسرائیل کی خاموشی بھی ایک حکمت عملی ہے۔
’[اسرائیلی] قیادت کا خیال ہے کہ ہمیں اس بار امریکیوں کو قیادت کرنے دینی چاہیے، کیونکہ وہ زیادہ طاقتور ہیں، زیادہ صلاحیتیں رکھتے ہیں، اور دنیا میں انھیں کہیں زیادہ اختیار حاصل ہے۔‘
بنیامن نیتن یاہو ایک طویل عرصے سے ایران کو اسرائیل کے لیے ایک اہم خطرہ اور مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی سب سے بڑی وجہ قرار دیتے آئے ہیں۔ عوامی سطح پر ان کی خاموشی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنے اتحادی امریکہ کے ساتھ نجی گفتگو میں اس متعلق بات نہیں کرتے ہوں گے۔
گذشتہ ہفتے اسرائیل کی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ شلومی بائنڈر نے واشنگٹن میں امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے ملاقاتیں کی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ بات چیت ایران میں ممکنہ اہداف پر مرکوز تھی۔
ڈینی سیٹرینوچز کا خیال ہے کہ نیتن یاہو نجی طور پر امریکہ کو ایران پر زیادہ سے زیادہ شدت سے حملے کرنے کا کہہ رہے ہوں گے جس کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ جب نیتن یاہو نے مبینہ طور پر گذشتہ ماہ کے اوائل میں صدر ٹرمپ کو بارہا ایران پر حملے سے باز رہنے کی کوشش کی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی نظر میں امریکہ کا حملے کا منصوبہ ’بہت چھوٹے پیمانے‘ کا تھا۔
نیتن یاہو نے اس سے قبل گذشتہ برس فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانیوں کو کہا تھا کہ وہ اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
فی الحال ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ ایران کے حوالے سے متعدد آپشنز پر غور کر رہے ہیں جس میں ایران پر ایک علامتی چھوٹے پیمانے کے حملے سے لے کر حکومت کی تبدیلی تک شامل ہے۔ عوامی طور پر وہ دھمکیوں کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی بھی پیشکش کر رہے ہیں۔
جہاں امریکہ کے کئی اتحادی ایران میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش سے خطے کو لاحق خطرات کے بارے میں متنبہ کر رہے ہیں وہیں اسرائیل میں کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ایسا کرنا اسرائیل کی سلامتی کے لیے سودمند ثابت ہو گا۔
اسرائیل کو امید ہے کہ تہران میں حکومت کی تبدیلی کے نتیجے میں نہ صرف ایران کے بیلسٹک میزائلوں سے لاحق خطرہ ختم ہو جائے گا بلکہ ایران کے جوہری ہتھیار حاسل کرنے کا امکان بھی ختم ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ اس سے خطے میں موجود ایرانی حمایت پراکسی مزید کمزور ہوں گے۔
کچھ اسرائیلی قانون سازوں کا خیال ہے کہ ایران پر ایک محدود پیمانے پر حملہ یا تہران کے ساتھ کسی نئے معاہدے کے نتیجے میں ایرانی حکومت قائم رہ گئی تو یہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے بڑے خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
اسرائیل کی پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی میں شامل اپوزیشن پارٹی کے ایک رکن موشے تور پاز کہتے ہیں کہ ’جب آپ بھرپور برائی نمٹ رہے ہوتے ہیں، تو آپ محدود پیمانے پر کام نہیں کرتے۔
’اس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ اسرائیل کو کہیں زیادہ طاقت سے جواب دینا چاہیے اور مغربی دنیا کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔ جب بات ایران جیسے ہمارے بدترین دشمن کی ہو تو کوئی بڑا اختلاف نہیں ہے۔ ہم سب اس خطرے کے بارے میں اچھی طرح سے آگاہ ہیں۔‘
امریکہ اور ایران دونوں کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے مذاکرات کو یورینیم کی افزودگی روکنے، خطے میں پراکسیوں کے لیے ایرانی حمایت ختم کرنے اور اس کے بیلسٹک میزائلوں پر پابندی سے مشروط کیا ہے- تاہم ایران ان سب باتوں کو ’ریڈ لائن‘ تصور کرتا ہے۔
اسرائیل کی قیادت ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے خلاف ہے جبکہ اسرائیلی تجزیہ کار اس بات پر منقسم ہیں کہ آیا ایسا کوئی معاہدہ ہو بھی سکتا ہے۔
کوہن کے خیال میں کہ واشنگٹن اور تہران دونوں معاہدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر جلد کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ حملہ کر دے گا۔ایسے آثار بھی ہیں کہ شاید ٹرمپ مذاکرات کے لیے اپنی شرائط کو محض ایران کے جوہری پروگرام تک محدود کر دیں۔
اگر شرائط اس حد تک آجاتی ہیں کہ تہران مذاکرات کی میز پر آجائے تو جہاں یہ خطہ کے بیشتر ممالک کے لیے راحت کا باعث ہوگا وہیں اسرائیل میں بہت سے لوگ اپنی سانسیں روک کر بیٹھ جائیں گے۔
کوہن کا کہنا ہے کہ یورینیم کی افزودگی جیسے مسائل پر سمجھوتہ کرنے کے طریقے موجود ہیں جو کہ عملی طور پر کسی بھی نئی سرگرمی کو عارضی طور پر روک سکتے ہیں جبکہ ایران کو کسی بھی واضح پابندی سے بچنے کا موقع بھی مل جائے گا۔
’ہمارے اور ایرانیوں کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ ہم فوری نتائج چاہتے ہیں جبکہ ایرانیوں میں بہت صبر ہے۔‘
’وہ کہتے ہیں: 'ہم یہاں 2000 سال یہاں ہیں، اگر ہمیں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے لیے مزید 30 سال لگ جائیں، تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز غزہ کی پٹی اور خان یونس میں بے گھر افراد کے خیموں پر ہونے والے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 32 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔
غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق اسرائیلی حملوں میں رہائشی اپارٹمنٹس، خیمے، پناہ گاہیں اور ایک پولیس سٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔
فلسطینیوں کے مطابق، یہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے بعد سے ہونے والا سب سے شدید حملہ ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البرش نے اے ایف پی کو بتایا کہ متاثرین کو شمال میں غزہ شہر کے الشفا ہسپتال اور جنوب میں خان یونس کے ناصر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ طبی شعبہ شدید بحران کا شکار ہے جہاں ادویات، آلات اور سامان کی کمی کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کی فوری بحال ہونے کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق یہ صورتحال جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب غزہ کی مصر کے ساتھ سرحدی گزرگاہ رفح کراسنگ اتوار کو دوبارہ کھولی جانی ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق مصر کی وزارت خارجہ نے ان حملوں کی مذمت کی ہے اور تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ ’انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں‘۔
جنگ بندی مذاکرات کے دوران ثالث کا کردار ادا کرنے والے ایک اور اہم ملک قطر نے بھی ’اسرائیل کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیوں‘ کی مذمت کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بار پھر کہا ہے کہ ان کے ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اس بارے میں خلیجی ممالک لاعلم ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے خلیجی ریاستوں کو ایران کے حوالے سے اپنے منصوبے سے لاعلم رکھنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم انھیں اپنا منصوبہ نہیں بتا سکتے، اگر میں نے انھیں اپنا پلان بتایا تو یہ ایسا ہی ہوگا جیسا میں آپ کو بتا دوں، درحقیقت یہ اس سے بھی بدتر ہو سکتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ منصوبہ یہ ہے کہ وہ ہم سے بات کر رہے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ کیا کوئی حل نکل سکتا ہے۔ ’بصورت دیگر، ہمیں دیکھنا ہو گا کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔‘
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے وہاں ایک بحری بیڑا وہاں بھیجا ہے، وینزویلا میں جو ہم نے بھیجا تھا اس سے کہیں بڑا جو اب بھی وہیں ہے۔
اس سے قبل جمعہ کی رات وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران جب صدر ٹرمپ سے خلیج میں امریکی فوج کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں یہ کہہ سکتا ہوں، وہ [ایران] ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘ تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے تہران کو معاہدہ کرنے کے لیے کوئی ڈیڈ لائن دی ہے، ٹرمپ نے کہا کہ ’صرف وہ ہی یقینی طور پر جانتے ہیں‘۔
صدر ٹرمپ نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’امید ہے کہ ہمارا معاہدہ ہو جائے گا۔ اگر ہم کسی معاہدہ پر پہنچ جاتے ہیں تو اچھا ہوگا۔ اگر ہمارا معاہدہ نہیں ہوتا تو ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے‘۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے تہران کو خبردار کیا تھا کہ اب امریکی بحری بیڑے اس کے قریب پہنچ رہے ہیں اور ایران کے پاس اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے وقت ختم ہوتا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہHassan Lali / BBC
جمہوریہ کانگو میں زیر زمین ایک کان بیٹھنے کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں خواتین، بچے اور مزدور شامل ہیں۔ تقریباً 20 زندہ بچ جانے والے افراد کو ہسپتال میں علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ صوبہ شمالی کیوو کے قصبے روبایا میں پیش آیا جہاں حکام کے مطابق شدید بارشوں کے بعد کان زمین بوس ہو گئی۔
حکومتی ترجمان نے بتایا کہ حادثے کے وقت ہلاکتوں کی حتمی تعداد سے متعلق ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا تاہم جس وقت حادثہ ہوا وہاں خواتین اور بچے بھی کولٹن نکالنے میں مصروف تھے۔
یاد رہے کولٹن موبائل فون اور کمپیوٹر جیسی الیکٹرانک مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔
کان کے ایک سابق نگران نے بی بی سی کو بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والی کان کے مقام کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی گئی تھی جس سے حادثات کے امکانات بڑھ گئے اور امدادی کارروائیاں بھی مشکل ہوئیں۔
ان کے مطابق زمین کی نازک نوعیت نے صورتحال کو مزید خراب کیا۔
ایک متاثرہ شخص ،جس کا کزن اس حادثے میں ہلاک ہوا نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ خاندان اور کمیونٹی کے لیے ’بڑا نقصان‘ ہے۔
انھوں نے اپنے کزن کو ’بہادر‘ اور ’پرعزم‘ قرار دیا جس کا مقصد اپنی بیوی اور دو بچوں کی کفالت کرنا تھا۔
ایم 23 باغیوں کے مقرر کردہ گورنر ایراستو بہاتی موسنگا نے جمعے کو متاثرین سے ملاقات کی۔
روبایا ان کئی قصبوں میں شامل ہے جو باغیوں کے زیرِ کنٹرول ہیں۔
یہ کان دنیا کے کولٹن کے ذخائر کا تقریباً 15 فیصد اور کانگو کے مجموعی ذخائر کا نصف رکھتی ہے۔
بی بی سی کی ٹیم نے جولائی 2025 میں اس مقام کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے دیکھا کہ مزدور ہاتھوں سے کان کنی کر رہے ہیں۔ حالات نہایت خراب ہیں اور خطرناک گڑھے جگہ جگہ موجود ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے الزام لگایا ہے کہ ایم 23 باغی کان کنی کے شعبے پر ٹیکس لگا کر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بی بی سی نے اس حوالے سے کانگو کی حکومت سے رابطہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا نے تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی اور خان یونس میں بے گھر افراد کے خیموں پر سنیچر کے روز اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 28 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔
طبی ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق اسرائیلی حملوں میں رہائشی اپارٹمنٹس، خیمے، پناہ گاہیں اور ایک پولیس سٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام نے بتایا کہ کئی افراد اب بھی ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔
غزہ پولیس کے جنرل ڈائریکٹوریٹ نے کہا کہ ایمبولینس اور ریسکیو عملہ مرنے والوں اور زخمیوں کو نکالنے میں مصروف ہے۔
ان کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے شیخ رضوان پولیس سٹیشن کو نشانہ بنایا،جس میں سات پولیس افسران اور اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ وہاں موجود شہری بھی حملے کی زد میں آئے۔
غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البرش نے اے ایف پی کو بتایا کہ متاثرین کو شمال میں غزہ شہر کے الشفا ہسپتال اور جنوب میں خان یونس کے ناصر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ طبی شعبہ شدید بحران کا شکار ہے جہاں ادویات، آلات اور سامان کی کمی کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کی فوری بحال ہونے کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق یہ صورتحال جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتی ہے۔
اسرائیلی فوج اور حماس کے دعووں میں تضاد
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ہفتے کے روز کہا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے جواب میں حماس اور اسلامی جہاد کے چار کمانڈروں اور کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب حماس کے آٹھ کارکن رفح کے علاقے میں ایک سرنگ کے اندر سے نکلے۔
فوج نے مزید کہا کہ وسطی غزہ کی پٹی میں ایک اسلحہ ڈپو، ہتھیاروں کی تیاری کی جگہ اور حماس کے دو راکٹ لانچ کرنے والے ڈھانچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب حماس نے اسرائیلی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات غلط ہیں اور ان کا مقصد غزہ میں شہریوں کے خلاف کیے جانے والے حملوں کو جواز فراہم کرنا ہے۔
حماس نے زور دیا کہ مبینہ خلاف ورزیوں کے بہانے مسلسل بمباری کو درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ یہ الزامات فلسطینی عوام کے خلاف جرائم کو جواز فراہم کرنے کی صریح اور قابل رحم کوشش کی نمائندگی کرتے ہیں۔

پاکستان کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 12 شہروں میں ہونے والے حملوں میں اب تک کم از کم 37 شدت پسند اور 10 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سنیچر کو جوابی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی تعداد 67 ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق گذشتہ روز پنجگور اور شابان میں مختلف کارروائیوں میں 41 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا، جس کے بعد دو روز میں ہلاک کیے جانے والے شدت پسندوں کی تعداد 108 ہو گئی ہے۔
بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق سنیچر کو ہونے والے حملوں میں 17 عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں، تاہم تاحال حکام نے سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی۔
مقامی پولیس اہلکار کے مطابق خاران میں ملازئی قومی اتحاد کے چیئرمین میر شاہد گل ملازئی کے گھر پر ہونے والے حملے میں شاہد گل سمیت سات افراد جان کی بازی ہار گئے۔ پولیس کے مطابق اُن کے گھر اور گاڑی کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گوادر میں ہونے والے حملے میں خضدار سے تعلق رکھنے والے خاندان کے 11 افراد کو ہلاک کیا گیا، ان میں تین خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ دارالحکومت کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں دہشت گردوں کے حملوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔
کالعدم علیحدگی پسند گروہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے ’آپریشن ہیروف‘ کا دوسرا مرحلہ قرار دیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ میں سنیچر کی صبح چھ بجے کے بعد حملوں کا آغاز ہوا اور دہشت گردوں نے سریاب روڈ اور ہزار گنجی سے لے کر ریڈ زون کے قریب ایدھی چوک کے علاقوں میں حملے کیے۔ ایدھی چوک پر ایک زوردار دھماکہ بھی ہوا جس کی نوعیت کا تعین نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب مستونگ جیل پر ہونے والے حملے کے دوران 27 قیدی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ نوشکی میں ڈپٹی کمشنر کے گھر پر ہونے والے حملے کے دوران اُنھیں یرغمال بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
بلوچستان کے ضلع پسنی میں ایک خاتون خود کش حملہ آور کی جانب سے میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے دفتر پر حملے کی بھی اطلاع موصول ہوئی ہے، تاہم حکام نے یہاں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان میں سنیچر کی صبح شروع ہونے والے حملوں میں دارالحکومت کوئٹہ بھی نشانہ بنا اور شہر کے مختلف مقامات پر دہشت گردوں نے حملے کیے۔
کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ شہر میں حملوں کا سلسلہ صبح چھ بجے کے بعد شروع ہوا اور ان کا آغاز شہر کے جنوبی علاقوں سے ہوا۔
شیخ زید ہسپتال کے علاقے سے بلوچستان یونیورسٹی کے اطراف مسلح افراد نے پولیس اور سکیورٹی فورسز کی چوکیوں پر حملے کیے۔
سریاب میں ہزار گنجی کے علاقے میں بینکوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ خالق شہید پولیس سٹیشن پر بھی حملہ کیا گیا۔ اس دوران دیگر سرکاری تنصیبات پر بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں۔
بعدازاں ان حملوں کا دائرہ کار ریڈ زون کے قریب ایدھی چوک تک پھیل گیا، جہاں نو بجے ایک زوردار دھماکے کے بعد دوپہر ایک بجے تک فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔
ایدھی چوک کے قریب واقع یونیورسل کمپلیکس میں موجود ایک عینی شاہد ایاز احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس سے کمپلیکس کے شیشے ٹوٹ گئے۔
دھماکے کی وجہ سے امداد چوک سے جناح روڈ تک کے علاقے میں ہوٹلز کے شیشے ٹوٹ گئے اور دکاندار، دکانیں بند کر کے چلے گئے۔
سول سیکریٹریٹ میں بھی دفاتر میں کوئی کام نہیں ہوا، جبکہ ضلع کچہری اور ماتحت عدالتوں میں بھی کام ٹھپ ہو کر رہ گیا۔
اس دوران ریڈ زون کے اطراف کے علاقوں سے بھی وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔ سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے صحافیوں کو سول ہسپتال جانے سے بھی روک دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے مطابق بلوچستان میں 12 مقامات پر دہشت گردوں نے حملے کیے جن میں کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی اور گوادر شامل ہیں۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے سنیچر کو دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کے واقعات میں کم از کم 37 شدت پسندوں اور 10 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ جبکہ سکیورٹی ذرائع نے جوابی کارروائیوں میں 67 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
کوئٹہ
بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ میں سنیچر کی صبح چھ بجے کے بعد حملوں کا آغاز ہوا اور دہشت گردوں نے سریاب روڈ اور ہزار گنجی سے لے کر ریڈ زون کے قریب ایدھی چوک کے علاقوں میں حملے کیے۔
ایدھی چوک پر ایک زوردار دھماکہ بھی ہوا جس کی نوعیت کا تعین نہیں ہو سکا۔
مستونگ
پولیس حکام کے مطابق مستونگ جیل پر ہونے والے حملے کے دوران 27 قیدی بھی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
نوشکی
ضلع نوشکی میں حکام کے مطابق ڈپٹی کمشنر کے گھر پر بھی حملہ کر کے اُنھیں یرغمال بنا لیا گیا ہے۔
خاران
مقامی پولیس اہلکار کے مطابق خاران میں ملازئی قومی اتحاد کے چیئرمین میر شاہد گل ملازئی کے گھر پر ہونے والے حملے میں شاہد گل سمیت سات افراد جان کی بازی ہار گئے۔ پولیس کے مطابق اُن کے گھر اور گاڑی کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا۔
گوادر
سکیورٹی ذرائع نے گوادر میں بھی حملے کی تصدیق کی ہے، جہاں خضدار سے تعلق رکھنے والے خاندان کے 11 افراد کو ہلاک کیا گیا، ان میں تین خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں۔
پسنی
بلوچستان کے ضلع پسنی میں ایک خاتون خود کش حملہ آور کی جانب سے میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے دفتر پر حملے کی بھی اطلاع موصول ہوئی ہے، تاہم حکام نے یہاں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
مچھ
ضلع مچھ میں پولیس اہلکار اور مقامی صحافی کے مطابق لوگوں کو گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے اور اس حوالے سے مساجد میں اعلانات بھی کیے گئے ہیں۔